سائنس اور تحقیق کے حوالے سے اخلاقیات
تحقیق کا مقصد حقیقت تک پہنچنا اور انسانی علم میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے محقق کو اخلاقی اصولوں کی پابندی کرنا ضروری ہے۔ تحقیقی اخلاقیات سے مراد وہ اقدار اور اصول ہیں جو تحقیق کے ہر مرحلے میں محقق کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ان اصولوں میں سچائی، انصاف، شفافیت، دیانت داری اور دوسروں کے حقوق کا احترام شامل ہے۔
مثال کے طور پر اگر کوئی محقق کسی نئی دوا کے اثرات کا مطالعہ کر رہا ہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ تمام نتائج ایمانداری کے ساتھ پیش کرے۔ اگر دوا کے کچھ منفی اثرات سامنے آئیں تو انہیں بھی بیان کرنا ضروری ہے۔ صرف مثبت نتائج پیش کرنا تحقیق کے بنیادی مقصد یعنی حقیقت کی تلاش کے خلاف ہے۔ اسی لیے تحقیقی اخلاقیات کو سائنسی عمل کی روح قرار دیا جاتا ہے۔
فکری دیانت داری
فکری دیانت داری سے مراد یہ ہے کہ محقق اپنے خیالات، نتائج اور معلومات کو مکمل سچائی اور ایمانداری کے ساتھ پیش کرے۔ وہ دوسروں کے علمی کام کو ان کے نام کے ساتھ تسلیم کرے اور کسی بھی قسم کی علمی بددیانتی سے اجتناب کرے۔ فکری دیانت داری ایک محقق کے کردار کا اہم حصہ ہے کیونکہ تحقیق کا پورا نظام اعتماد پر قائم ہوتا ہے۔
فرض کریں ایک طالب علم نے کسی معروف محقق کی کتاب سے اہم معلومات حاصل کی ہیں۔ اگر وہ ان معلومات کو اپنے الفاظ میں یا اصل عبارت کی صورت میں استعمال کرتے وقت مصنف کا حوالہ دیتا ہے تو وہ فکری دیانت داری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ لیکن اگر وہ انہی معلومات کو اپنا ذاتی کام ظاہر کرے تو یہ علمی بددیانتی شمار ہوگی۔ اس لیے فکری دیانت داری تحقیق کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔
تحقیقی دیانت داری
تحقیقی دیانت داری کا مطلب تحقیق کے پورے عمل میں اخلاقی اور پیشہ ورانہ اصولوں کی پابندی کرنا ہے۔ اس میں تحقیق کی منصوبہ بندی، معلومات جمع کرنا، ان کا تجزیہ کرنا، نتائج اخذ کرنا اور ان کی اشاعت شامل ہے۔ ایک ذمہ دار محقق اپنے ذاتی مفادات، پسند و ناپسند یا مالی فوائد کو تحقیق کی سچائی پر اثر انداز نہیں ہونے دیتا۔
مثال کے طور پر اگر کسی محقق کو تجربات کے دوران ایسے نتائج حاصل ہوتے ہیں جو اس کے ابتدائی خیال کے خلاف ہوں تو اسے ان نتائج کو بھی شامل کرنا چاہیے۔ ایک دیانت دار محقق صرف وہی بات بیان کرتا ہے جو شواہد سے ثابت ہو، نہ کہ وہ جو وہ ثابت کرنا چاہتا ہو۔ یہی رویہ تحقیق کو قابلِ اعتماد بناتا ہے۔
سائنسی بدعنوانی
سائنسی بدعنوانی سے مراد تحقیق کے دوران جان بوجھ کر ایسے اقدامات کرنا ہے جو حقیقت کو مسخ کریں یا دوسروں کو گمراہ کریں۔ یہ عمل تحقیق کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے اور اس سے علمی دنیا کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ سائنسی بدعنوانی کی چند اہم صورتیں درج ذیل ہیں۔
من گھڑت معلومات تیار کرنا
یہ وہ صورت ہے جس میں محقق ایسی معلومات، مشاہدات یا نتائج تیار کر لیتا ہے جو حقیقت میں موجود ہی نہیں ہوتے۔ دوسرے لفظوں میں وہ تحقیق کیے بغیر نتائج ایجاد کر لیتا ہے اور انہیں اصلی نتائج کے طور پر پیش کرتا ہے۔
مثال کے طور پر اگر کوئی محقق یہ دعویٰ کرے کہ اس نے دو سو افراد پر تحقیق کی ہے جبکہ حقیقت میں اس نے کسی پر بھی تحقیق نہیں کی اور تمام اعدادوشمار خود بنا لیے ہیں تو یہ ایک سنگین غیر اخلاقی عمل ہوگا۔ اس قسم کی بددیانتی تحقیق کی بنیاد ہی کو ختم کر دیتی ہے۔
معلومات میں ردوبدل کرنا
یہ صورت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب محقق اصل معلومات یا نتائج میں جان بوجھ کر تبدیلی کرے تاکہ نتائج اس کی توقعات کے مطابق نظر آئیں۔ بعض اوقات محقق ایسے نتائج کو حذف کر دیتا ہے جو اس کے خیال کے خلاف ہوں یا اعدادوشمار میں ردوبدل کر دیتا ہے۔
مثال کے طور پر اگر ایک تجربے کے دس نتائج میں سے تین نتائج اس کی رائے کی تردید کرتے ہوں اور وہ انہیں رپورٹ سے نکال دے تو یہ معلومات میں ردوبدل شمار ہوگا۔ اس عمل سے تحقیق کی سچائی متاثر ہوتی ہے اور قارئین کو گمراہ کن تصویر ملتی ہے۔
علمی سرقہ
علمی سرقہ اس عمل کو کہتے ہیں جس میں کسی دوسرے شخص کے خیالات، الفاظ، نظریات یا تحقیقی نتائج کو بغیر حوالہ دیے اپنے نام سے پیش کیا جائے۔ علمی دنیا میں اسے ایک سنگین اخلاقی جرم سمجھا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر اگر ایک طالب علم کسی کتاب سے کئی صفحات نقل کر کے اپنے مقالے میں شامل کر لے اور اصل مصنف کا ذکر نہ کرے تو یہ علمی سرقہ ہوگا۔ اسی طرح کسی کے نظریے یا تحقیق کو اپنے نام سے پیش کرنا بھی علمی سرقے میں شامل ہے۔ علمی دیانت داری کا تقاضا ہے کہ ہر معلومات کے اصل ماخذ کا اعتراف کیا جائے۔
غیر ضروری اور تکراری اشاعتیں
تحقیق میں بعض اوقات محققین اپنی اشاعتوں کی تعداد بڑھانے کے لیے ایک ہی تحقیق کو مختلف انداز میں بار بار شائع کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ براہِ راست جھوٹ نہیں ہوتا لیکن اسے غیر اخلاقی سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس سے علمی ریکارڈ میں غیر ضروری تکرار پیدا ہوتی ہے۔
ایک ہی تحقیق کی دوبارہ اشاعت
یہ اس وقت ہوتی ہے جب ایک ہی تحقیقی کام کو ایک سے زیادہ جگہوں پر شائع کر دیا جائے، حالانکہ وہ پہلے ہی شائع ہو چکا ہو۔
مثال کے طور پر اگر ایک محقق اپنا تحقیقی مقالہ ایک جریدے میں شائع کرنے کے بعد تقریباً اسی شکل میں کسی دوسرے جریدے میں بھی شائع کر دے تو یہ غیر اخلاقی عمل شمار ہوگا۔ اس سے قارئین یہ سمجھتے ہیں کہ یہ نئی تحقیق ہے جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔
جزوی طور پر دہرائی گئی اشاعت
بعض اوقات مکمل تحقیق تو دوبارہ شائع نہیں کی جاتی لیکن اس کا بڑا حصہ مختلف مقالات میں بار بار استعمال کیا جاتا ہے۔ اس صورت میں مواد کا ایک بڑا حصہ مشترک ہوتا ہے اور قارئین کو اس بات کا علم نہیں ہوتا۔
مثال کے طور پر اگر ایک ہی معلومات کو معمولی تبدیلیوں کے ساتھ مختلف مقالات میں پیش کیا جائے تو یہ بھی غیر اخلاقی رویہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس سے تحقیق کی اصل اہمیت اور مقدار کے بارے میں غلط تاثر پیدا ہوتا ہے۔
تحقیق کو غیر ضروری حصوں میں تقسیم کرنا
بعض محققین ایک بڑی تحقیق کو مصنوعی طور پر کئی چھوٹے حصوں میں تقسیم کرکے الگ الگ شائع کرتے ہیں تاکہ ان کی اشاعتوں کی تعداد زیادہ نظر آئے۔ حالانکہ وہ تمام حصے دراصل ایک ہی تحقیق کا حصہ ہوتے ہیں۔
مثال کے طور پر اگر ایک جامع سروے کے نتائج کو ایک مکمل مقالے کی صورت میں پیش کرنے کے بجائے کئی چھوٹے مقالات میں تقسیم کر دیا جائے، جبکہ اس کی کوئی حقیقی علمی ضرورت نہ ہو، تو یہ غیر اخلاقی عمل تصور کیا جاتا ہے۔
منتخب نتائج کی رپورٹنگ
منتخب نتائج کی رپورٹنگ اس وقت ہوتی ہے جب محقق صرف وہ نتائج پیش کرتا ہے جو اس کے مفروضے یا توقعات کے مطابق ہوں جبکہ باقی نتائج کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ اس طرح قارئین کو تحقیق کی مکمل تصویر نہیں ملتی۔
مثال کے طور پر اگر کسی دوا کے تجربے میں مثبت اور منفی دونوں قسم کے نتائج حاصل ہوں لیکن محقق صرف مثبت نتائج شائع کرے تو لوگ دوا کو حقیقت سے زیادہ مؤثر سمجھ سکتے ہیں۔ یہ عمل سچائی اور شفافیت کے اصولوں کے خلاف ہے۔
معلومات کی غلط نمائندگی
معلومات کی غلط نمائندگی سے مراد معلومات کو اس انداز میں پیش کرنا ہے کہ حقیقت کچھ اور ہو لیکن قارئین کو کچھ اور تاثر ملے۔ اس میں اعدادوشمار، جدولوں یا خاکوں کو اس طرح ترتیب دینا شامل ہو سکتا ہے کہ نتائج غیر معمولی طور پر اہم دکھائی دیں۔
مثال کے طور پر اگر کسی تحقیق میں بہت معمولی فرق ہو لیکن خاکے کو اس انداز میں بنایا جائے کہ وہ فرق بہت بڑا نظر آئے تو یہ معلومات کی غلط نمائندگی ہوگی۔ اگرچہ اصل معلومات تبدیل نہیں کی جاتیں لیکن ان کی پیشکش گمراہ کن ہوتی ہے۔
نتیجہ
آج کے لیکچر میں ہم نے سیکھا کہ سائنسی تحقیق کی بنیاد سچائی، دیانت داری اور ذمہ داری پر قائم ہوتی ہے۔ فکری دیانت داری اور تحقیقی دیانت داری ایک اچھے محقق کی بنیادی صفات ہیں۔ ہم نے یہ بھی جانا کہ من گھڑت معلومات تیار کرنا، معلومات میں ردوبدل کرنا، علمی سرقہ کرنا، ایک ہی تحقیق کو بار بار شائع کرنا، تحقیق کو غیر ضروری حصوں میں تقسیم کرنا، منتخب نتائج پیش کرنا اور معلومات کی غلط نمائندگی کرنا ایسے غیر اخلاقی اعمال ہیں جو تحقیق کے معیار اور اعتبار کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ ایک کامیاب محقق ہمیشہ حقیقت کو ترجیح دیتا ہے اور اپنے علمی فرائض کو پوری ایمانداری کے ساتھ انجام دیتا ہے۔

إرسال تعليق